نورِ عرفان
Umar Hussain
male vocals
Warm spiritual pop-anthem
midtempo groove with airy pads and subtle acoustic guitar; male vocals upfront and heartfelt. Verse stays intimate with soft percussion and a gentle bass pulse
chorus lifts with stacked harmonies and bright piano chords. Light frame drum and claps build towards a modest bridge
then drop back to a hushed final hook for a reflective ending.
Erstellt am Jan 30, 2026
Songtexte
[Verse 1]
دل کی وادی میں جو اُترا، وہی نورِ عرفان
بند نظر تھی، کھل گئی جب، آیا ذکرِ رحمن
خواب بکھرے، یادیں سوکھی، سوکھے سب ارمان
تیری بات نے سب سنوارا، بن گئی آسان
[Chorus]
نورِ عرفان، اللّٰہ کا فرمان
یہ ہے نورِ عرفان
دل کا سکوں، تیرا ہی احسان
یہ ہے نورِ عرفان
نورِ عرفان، اللّٰہ کا فرمان
یہ ہے نورِ عرفان
سانس میں تُو، لب پہ تیرا نام
یہ ہے نورِ عرفان
[Verse 2]
ایک اشارہ، ایک صدا تھی، اندر تک جا پہنچی
خالی ہاتھوں میں بھی جیسے، رحمت برستی رہی
راستہ دشوار تھا پہلے، اب سب کچھ آسان
قدم قدم پر ملتا رہتا، تیرا ہی سامان
[Chorus]
نورِ عرفان، اللّٰہ کا فرمان
یہ ہے نورِ عرفان
دل کا سکوں، تیرا ہی احسان
یہ ہے نورِ عرفان
نورِ عرفان، اللّٰہ کا فرمان
یہ ہے نورِ عرفان
اشک بھی ہنسی، دُکھ بھی مسکان
یہ ہے نورِ عرفان
[Bridge]
جب بھی دل گھبرائے، بس تیرا نام لے لوں
رات کی تہہ میں بیٹھ کے، ایک ہی در پہ جھک جاؤں
پتھر دل بھی موم ہو جائے، تیرا ذکر جہاں
تجھ سے جڑ کر بنتا جائے، میرا ہر اِمتحان
[Chorus]
نورِ عرفان، اللّٰہ کا فرمان
یہ ہے نورِ عرفان
دل کا سکوں، تیرا ہی احسان
یہ ہے نورِ عرفان
نورِ عرفان، اللّٰہ کا فرمان
یہ ہے نورِ عرفان
سانس میں تُو، لب پہ تیرا نام
یہ ہے نورِ عرفان
دل کی وادی میں جو اُترا، وہی نورِ عرفان
بند نظر تھی، کھل گئی جب، آیا ذکرِ رحمن
خواب بکھرے، یادیں سوکھی، سوکھے سب ارمان
تیری بات نے سب سنوارا، بن گئی آسان
[Chorus]
نورِ عرفان، اللّٰہ کا فرمان
یہ ہے نورِ عرفان
دل کا سکوں، تیرا ہی احسان
یہ ہے نورِ عرفان
نورِ عرفان، اللّٰہ کا فرمان
یہ ہے نورِ عرفان
سانس میں تُو، لب پہ تیرا نام
یہ ہے نورِ عرفان
[Verse 2]
ایک اشارہ، ایک صدا تھی، اندر تک جا پہنچی
خالی ہاتھوں میں بھی جیسے، رحمت برستی رہی
راستہ دشوار تھا پہلے، اب سب کچھ آسان
قدم قدم پر ملتا رہتا، تیرا ہی سامان
[Chorus]
نورِ عرفان، اللّٰہ کا فرمان
یہ ہے نورِ عرفان
دل کا سکوں، تیرا ہی احسان
یہ ہے نورِ عرفان
نورِ عرفان، اللّٰہ کا فرمان
یہ ہے نورِ عرفان
اشک بھی ہنسی، دُکھ بھی مسکان
یہ ہے نورِ عرفان
[Bridge]
جب بھی دل گھبرائے، بس تیرا نام لے لوں
رات کی تہہ میں بیٹھ کے، ایک ہی در پہ جھک جاؤں
پتھر دل بھی موم ہو جائے، تیرا ذکر جہاں
تجھ سے جڑ کر بنتا جائے، میرا ہر اِمتحان
[Chorus]
نورِ عرفان، اللّٰہ کا فرمان
یہ ہے نورِ عرفان
دل کا سکوں، تیرا ہی احسان
یہ ہے نورِ عرفان
نورِ عرفان، اللّٰہ کا فرمان
یہ ہے نورِ عرفان
سانس میں تُو، لب پہ تیرا نام
یہ ہے نورِ عرفان