نورِ عرفان cover art

가사

[Verse 1]
دل کی وادی میں جو اُترا، وہی نورِ عرفان
بند نظر تھی، کھل گئی جب، آیا ذکرِ رحمن
خواب بکھرے، یادیں سوکھی، سوکھے سب ارمان
تیری بات نے سب سنوارا، بن گئی آسان

[Chorus]
نورِ عرفان، اللّٰہ کا فرمان
یہ ہے نورِ عرفان
دل کا سکوں، تیرا ہی احسان
یہ ہے نورِ عرفان
نورِ عرفان، اللّٰہ کا فرمان
یہ ہے نورِ عرفان
سانس میں تُو، لب پہ تیرا نام
یہ ہے نورِ عرفان

[Verse 2]
ایک اشارہ، ایک صدا تھی، اندر تک جا پہنچی
خالی ہاتھوں میں بھی جیسے، رحمت برستی رہی
راستہ دشوار تھا پہلے، اب سب کچھ آسان
قدم قدم پر ملتا رہتا، تیرا ہی سامان

[Chorus]
نورِ عرفان، اللّٰہ کا فرمان
یہ ہے نورِ عرفان
دل کا سکوں، تیرا ہی احسان
یہ ہے نورِ عرفان
نورِ عرفان، اللّٰہ کا فرمان
یہ ہے نورِ عرفان
اشک بھی ہنسی، دُکھ بھی مسکان
یہ ہے نورِ عرفان

[Bridge]
جب بھی دل گھبرائے، بس تیرا نام لے لوں
رات کی تہہ میں بیٹھ کے، ایک ہی در پہ جھک جاؤں
پتھر دل بھی موم ہو جائے، تیرا ذکر جہاں
تجھ سے جڑ کر بنتا جائے، میرا ہر اِمتحان

[Chorus]
نورِ عرفان، اللّٰہ کا فرمان
یہ ہے نورِ عرفان
دل کا سکوں، تیرا ہی احسان
یہ ہے نورِ عرفان
نورِ عرفان، اللّٰہ کا فرمان
یہ ہے نورِ عرفان
سانس میں تُو، لب پہ تیرا نام
یہ ہے نورِ عرفان